(۲۳۴۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : شَہِدَ رَجُلاَنِ عِنْدَ شُرَیْحٍ لِرَجُلٍ عَلَی شَیْئٍ ، قَالَ الأَعْمَشُ : أَرَاہُ قَالَ : عَلَی بَغْلٍ فَقَالَ : نَشْہَدُ أَنَّ ہَذَا اشْتَرَاہُ مِنْ ہَذَا ، قَالَ أَحَدُ الشَّاہِدَیْنِ: وَأَشْہَدُ أَنَّہُ فَاجِرٌ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : وَمَا یُدْرِیک أَنَّہُ فَاجِرٌ ؟ قُمْ لاَ شَہَادَۃَ لَک۔
(٢٣٤٧٨) حضرت عمارۃ سے مروی ہے کہ حضرت شریح کے قاضی شریح کے پاس دو آدمیوں نے کسی شخص کے بارے میں کسی معاملے میں گواہی دی۔ اعمش فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ گواہی گدھے کے بارے میں تھی۔ گواہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس نے یہ گدھا فلاں سے خریدا ہے۔ پھر ان میں سیایک گواہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا کہ یہ فاجر شخص ہے۔ شریح نے فرمایا کہ تجھے کیسے پتہ ہے کہ یہ فاجر ہے کھڑا ہوجا تیری گواہی قبول نہیں ہے۔