(۲۳۴۸۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّیِّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ إبْرَہِیمٍ : فِی رَجُلٍ أَذِنَ لِعَبْدِہِ فَلَحقہُ دَیْنٌ ، وَمَاتَ الْمَوْلَی وَعَلَیْہِ دَیْنٌ ، قَالَ : یُبْدَأُ بِدَیْنِ الْمَوْلَی قَبْلَ دَیْنِ الْعَبْدِ۔
قَالَ الْبَتِّیُّ : لاَ یُعْجِبُنِی ذَلِکَ ، یُبْدَأُ بِدَیْنِ الْعَبْدِ قَبْلَ دَیْنِ الْمَوْلَی ، لأَنَّہُ أَطْلَقَ رَقَبَتَہُ۔
(٢٣٤٨١) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو تجارت کی اجازت دی پھر وہ مقروض ہوگیا، اور آقا کا انتقال بھی اِ س حال میں ہوا کہ آقا مقروض ہے، فرمایا : غلام کے دین سے قبل آقا کے قرض سے ابتدا کریں گے، حضرت البتی فرماتے ہیں : مجھے اس پر تعجب نہیں ہوا : غلام کے دین سے ابتدا کریں گے آقا کے قرض سے قبل، کیونکہ اس نے اس کی آزادی کو مطلق رکھا ہے۔