(۲۳۵۳۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی الرَّجُلِ یَبْتَاعُ الثَّوْبَ جَمَاعَۃً ، کُلُّ ثَوْبٍ بِعَشَرَۃِ دَرَاہِمَ وَبَعْضُہُ خَیْرٌ مِنْ بَعْضٍ ، فَیَکُونُ فِی بَعْضِہِ خَرْقٌ ؟ قَالَ : یَرُدہُّ بِعَشَرٍ۔
قَالَ سُفْیَانُ غَیْرَہُ یقول : یردہ بقیمتہ من جمیع الثمن۔ قَالَ سفیان وَہُوَ أَحَبُّ إلَیَّ۔
(٢٣٥٣٣) حضرت ابراہیم سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا، جس نے کچھ کپڑے یہ کہہ کر فروخت کیے کہ ہر کپڑا دس درہم کا ہے، اور ان کپڑوں میں بعض کپڑے بعض سے اعلیٰ ہوں، اور بعض کپڑوں میں پھٹن ہو تو کیا حکم ہے ؟ وہ کپڑا دس درہم کے بدلہ میں واپس کرے گا۔ حضرت فیان ایک اور بات فرماتے ہیں وہ یہ کہ پوری گٹھڑی کے حساب سے جتنی قیمت اس کپڑے کی بنتی ہے وہی دے گا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہے۔