(۲۳۵۵۱) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الأَخْرَمِ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : إنِّی أَعْتَقْت أَمَتِی ہَذِہِ ، وَاشْتَرَطْت عَلَیْہَا أَنْ تَلِیَ مِنِّی مَا تَلِی الأَمَۃُ مِنْ سَیِّدِہَا إلاَّ الْفَرْجِ ، أَوْ قَالَ : غَیْرِ الْفَرْجِ ، فَلَمَّا غَلُظْت رَقَبَتَہَا ، قَالَتْ : إنِّی حُرَّۃٌ ، قَالَ : لَیْسَ ذَلِکَ لَہَا ، خُذْ بِرَقَبَتِہَا فَانْطَلِقْ بِہَا ، فَلَکَ مَا اشْتَرَطْت عَلَیْہَا۔
(٢٣٥٥١) حضرت سعد بن الاخرم سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے اپنی اس باندی کو آزاد کردیا ہے، اور میں نے اس پر شرط لگائی ہے کہ جس طرح باندی آقا کی خدمت کرتی ہے اس طرح میری خدمت کرے گی، سوائے اس کی شرم گاہ کے، پھر جب میں نے اس کی غلامی میں سختی کی تو یہ کہتی ہے کہ میں آزاد ہوں، آپ نے فرمایا : اس کو اس بات کا اختیار نہیں ہے، اس کو پکڑ کرلے جاؤ، جو شرط آپ نے لگائی ہے اس پر اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔