(۲۳۵۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَکَمِ : فِی الرَّجُلِ یُؤَاجِرُ دَارَہُ عَشْرَ سِنِینَ ، فَیَمُوتُ قَبْلَ ذَلِکَ : تُنْتَقَضُ الإِجَارَۃُ ، وَتَبْطُلُ الْعَارِیَّۃُ۔
وَقَالَ مَکْحُولٌ : تَمْضِی الْعَارِیَّۃُ ، وَتَبْطُلُ الإِجَارَۃُ۔
وَقَالَ إیَاسُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ : یَمْضِیَانِ إلَی غَایَتِہِمَا۔
قَالَ أَیُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : إنَّمَا یَرِثُونَ مِنْ ذَلِکَ مَا کَانَ یَمْلِکُ فِی حَیَاتِہِ۔
(٢٣٥٦٣) حضرت حکم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے اپنا گھر دس سالوں کے لیے اجرت پر دیا پھر اس سے قبل ہی وہ فوت ہوگیا تو اجارہ ختم ہوجائے گا اور عاریت باطل ہوجائے گی۔
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عاریت کو پورا کیا جائے گا اور اجارہ باطل ہوجائے گا ۔ حضرت ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں کہ دونوں کو انتہاء تک پورا کیا جائے گا۔
حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں اس کے ورثاء اس کے وارث ہوں گے جس کا وہ اپنی زندگی میں مالک تھا۔