(۲۳۵۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا جَعْفَرٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : صَدِیقٌ لِی أَصَابَ مَالاً حَرَامًا فَخَالَطَ کُلَّ شَیْئٍ مِنْہُ مِنْ أَہْلِہِ وَمَا لَہُمْ ، ثُمَّ إِنَّہُ عَرَفَ مَا کَانَ فِیہِ ، فَأَقْبَلَ عَلَی الْحَجِّ وَجِوَارِ ہَذَا الْبَیْتِ ، فَمَا تَرَی لَہُ ؟ قَالَ : أَرَی لَہُ أَنْ یَتَّقِیَ اللَّہَ ، ثُمَّ لاَ یَعُودُ۔
(٢٣٥٩٥) حضرت ربیع سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو جعفر (رض) سے دریافت کیا کہ میرے دوست کو حرام مال ملا ہے، پھر سارے کا سارا مال اس نے اپنے اہل اور ان کے مال کے ساتھ ملا دیا۔ پھر اس میں جو قباحت اور برائی تھی اس کو معلوم ہوگئی اس نے وہ سارا مال حج اور بیت اللہ کے ہمسایوں پر خرچ کردیا تو آپ کی اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو جعفر نے فرمایا : وہ اللہ سے ڈرے اور دوبارہ ایسا مت کرے۔