(۲۳۶۲۳) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَارُونُ الْبَرْبَرِیُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنْ رَجُلٍ دَفَعَ إلَی رَجُلٍ مَالاً مُضَارَبَۃً وَأَشْہَدَ عَلَیْہِ بِہِ ، فَجَائَ الرَّجُلُ یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَ مِنْہُ مَالَہُ ، فَقَالَ : قَدْ دَفَعْتہ إلَیْک ، فَقَالَ الْحَکَمُ : عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃُ أَنَّہُ دَفَعَہُ إلَیْہِ کَمَا أَشْہَدَ عَلَیْہِ ، وَقَالَ حَمَّادٌ : یُصَدَّقُ فِیہِ کَمَا یُصَدَّقُ فِی مِثْلِہِ۔
(٢٣٦٢٣) حضرت ہارون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو مال بطور مضاربت دیا، اور اس پر گواہ قائم کیے، پھر وہ شخص اُ س سے مال وصول کرنے آیا، تو اس نے کہا کہ میں نے تو مال دے دیا تھا۔ حکم فرماتے ہیں کہ وہ اس بات پر گواہ قائم کرے گا کہ اس نے مال واپس کردیا ہے۔ جس طرح صاحب مال نے اس پر گواہ قائم کیے تھے۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ جس طرح دوسرے معاملات میں اس کی تصدیق کی جاتی ہے اسی طرح معاملہ میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ (یعنی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا) ۔