(۲۳۶۳۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ : أَنَّ رَجُلاً بَعَثَ إلَی عَائِشَۃَ بِصُرَّۃٍ مِنْ دَنَانِیرَ عَلَیْہَا لِعَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، فَلَمَّا انْتَہَی الْقَوْمُ قَریبًا مِنَ الْمَدِینَۃِ أَصَابَتْہُمْ سَمَائٌ ، فَضَاعَتِ الصُّرَّۃُ ، فَمَضَی الْقَوْمُ فَأَتَوُا الْمَدِینَۃَ ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ فِی الْکِتَابِ ، ثُمَّ جَعَلَ مِثْلَ الدَّنَانِیرِ وَکَتَبَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ جَائَ بِالْکِتَابِ وَالصُّرَّۃِ إلَی عَائِشَۃَ ، وَمَرَّ قَوْمٌ بِذَلِکَ الْمَنْزِلِ ، فَوَجَدُوا الصُّرَّۃَ مَکْتُوبًا عَلَیْہَا ، فَجَاؤُوا بِہَا إلَی عَائِشَۃَ ، فَأَرْسَلَتْ بِذَلِکَ إلَی صَاحِبِ الدَّنَانِیرِ الأُولَی ، فَقَالَتْ لَہُ : أَخْبِرْنِی خَبَرَ الدَّنَانِیرِ ، فَقَالَ لَہَا : الْخَبَرُ فِی الْکِتَابِ ، فَقَالَتْ : اُصْدُقْنِی ، فَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ ، قَالَتْ : قَدْ أَرَدْت أَنْ تُطْعِمَنِی مَا لاَ یَحِلُّ لِی۔
(٢٣٦٣١) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دیناروں کی تھیلی حضرت عائشہ (رض) کی طرف بھیجی، جس پر لکھا تھا کہ یہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے لیے ہے۔ جب لوگ مدینہ کے قریب ہوئے تو ان پر آسمان سے آفت اتری اور وہ تھیلی ضائع ہوگئی، پھر وہ لوگ مدینہ آئے، اس شخص نے وہ کتابت دیکھی ہوئی تھی۔ پھر اس دیناروں کی طرح بنائے، اس پر وہی کچھ لکھا پھر وہ کتاب اور تھیلی لے کر حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، بعد میں کچھ لوگ اس جگہ سے گذرے، اُنہوں نے وہاں پر تھیلی پائی جس پر لکھا ہوا تھا، وہ اس تھیلی کو حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں لے کر آئے، انھوں نے وہ دینار پہلے والے شخص کو بھیج دئیے، اور اس سے فرمایا کہ مجھے ان دیناروں کے بارے میں بتاؤ، اس نے آپ سے عرض کیا کہ بات پوری کتاب میں لکھی ہوئی ہے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : مجھے سچی سچی بات بتاؤ تب اس نے صحیح بات بتائی۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تو وہ چیز مجھے کھلانا چاہتا ہے جو میرے لیے حلال نہیں ہے ؟