(۲۳۶۳۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَہْمِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللہِ بْنَ جَعْفَرٍ یُحَدِّثُ : أَنَّ عَلِیًّا کَانَ لاَ یَحْضُرُ الْخُصُومَۃَ ، وَکَانَ یَقُولُ : إنَّ لَہَا قُحَمًا یَحْضُرُہَا الشَّیْطَانُ ، فَجَعَلَ خُصُومَتَہُ إلَی عَقِیلٍ ، فَلَمَّا کَبِرَ وَرَقَّ حَوَّلَہَا إلَیَّ ، فَکَانَ عَلِیٌّ یَقُولُ : مَا قُضِیَ لِوَکِیلِی فَلِی ، وَمَا قُضِیَ عَلَی وَکِیلِی فَعَلَیَّ۔
(٢٣٦٣٨) حضرت علی (رض) کے پاس جب بھی کوئی جھگڑا آتا تو فرماتے اس میں بہت سی ناگزیر باتیں ایسی ہیں کہ جن میں شیطان حاضر ہوتا ہے، جس میں شیطان حاضر ہوتا ہے، پھر آپ اس جھگڑے کو حضرت عقیل کی طرف بھیج دیتے، پھر جب وہ بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو وہ اس کو میری طرف پھیر دیتے، حضرت علی (رض) فرماتے تھے جو فیصلہ میرے وکیل کے لیے گیا ہے وہی میرے لیے ہے، اور جو فیصلہ میرے وکیل پر کیا گیا ہے وہ مجھ پر ہے۔