(۲۳۶۹۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُوسَی، قَالَ: أخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ: أَنَّ الضَّحَّاکَ بْنَ قَیْسٍ اخْتَصَمَ إلَیْہِ فِی جَارِیَۃٍ وَجَدَ بِہَا الدُّبَیْلَۃَ وَہُوَ دَائٌ قَدِیمٌ یُعْرَفُ أَنَّہُ لَیْسَ مِمَّا یَحْدُثُ ، فَقَضَی بِہِ عَلَی الْبَائِعِ۔
قَالَ سُفْیَانُ : وَقَوْلُ الضَّحَّاکِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ قَوْلِ شُرَیْحٍ : إذَا کَانَ یَعْرِفُ أَنَّہُ لَیْسَ مِمَّا یَحْدُثُ أَنْ یَرُدَّ وَیُوجِبُ یَمِینَ الْمُشْتَرِی أَنَّہُ لَمْ یَرَہُ قَبْلَ أَنْ یَشْتَرِیَہُ ، وَلَمْ یَرْضَہُ بَعْدَ مَا رَآہُ۔
(٢٣٦٩٠) حضرت ضحاک کے پاس ایک باندی کا جھگڑا لایا گیا جس کو دبیلہ بیماری تھی۔ یہ ایک مشہور بیماری ہے جو اچانک نہیں لگتی تو حضرت ضحاک نے بائع کے خلاف فیصلہ کیا۔
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک کا قول مجھے حضرت شریح کی بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ جب معلوم ہوجائے کہ وہ نیا نہیں ہے تو وہ واپس کیا جائے گا، اور مشتری سے قسم لی جائے گی کہ اس نے خریدنے سے قبل اس کو نہیں دیکھا تھا اور دیکھنے کے بعد وہ اس پر راضی نہیں ہے۔