(۲۳۷۱۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُکَیْر ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : أُصِیبَ رَجُلٌ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ثِمَارٍ ابْتَاعَہَا ، فَکَثُرَ دَیْنُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقُوا عَلَیْہِ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَیْہِ ، فَلَمْ یَبْلُغْ ذَلِکَ وَفَائَ دَیْنِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ ، وَلَیْسَ لَکُمْ إلاَّ ذَلِکَ۔ یَعْنِی : الْغُرَمَائَ۔
(مسلم ۱۱۹۱۔ ابوداؤد ۳۴۶۳)
(٢٣٧١٤) حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور مبارکہ میں پھل کی خریداری میں بہت گھاٹا پڑا، اور اس پر قرضہ بہت زیادہ ہوگیا، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر صدقہ کرو، لوگوں نے اس کو صدقہ دیا لیکن پھر بھی اتنے پیسے نہ ہو سکے کہ قرضہ اتر سکے۔ اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر آپ نے قرض خواہوں سے ک ہا کہ جو کچھ مل گیا ہے اسی کو لے لو اور اسی پر اکتفاء کرو۔