hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 23733

.

ابن أبي شيبة

23733
Ibn Abi Shaybah
(۲۳۷۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : اسْتَوْدَعَ رَجُلاَنِ امْرَأَۃً وَدِیعَۃً وَقَالاَ لَہَا : لاَ تَدْفَعِیہَا إِلَی وَاحِدٍ مِنَّا حَتَّی نَجْتَمِعَ عِنْدَکَ ، ثُمَّ انْطَلَقَا فَغَابَا ، فَجَائَ أَحَدُہُمَا إلَیْہَا فَقَالَ : أَعْطِینِی وَدِیعَتِی فَإِنَّ صَاحِبِی قَدْ مَاتَ ، فَأَبَتْ حَتَّی کَثُرَ اخْتِلاَفُہُ إلَیْہَا ، ثُمَّ أَعْطَتْہُ ، ثُمَّ جَائَ الآخَرُ بَعْدُ فَقَالَ : ہَاتِی وَدِیعَتِی ، فَقَالَتْ : قَدْ جَائَ صَاحِبُک فَذَکَرَ أَنَّک قَدْ مِتَّ ، فَأَخَذَ وَدِیعَتَکُمَا مِنِّی ، فَارْتَفَعَا إلَی عُمَرَ ، فَلَمَّا قَصَّا عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ ، قَالَ لَہَا عُمَرُ : مَا أَرَاک إلاَّ قَدْ ضَمِنْت ، قالَتِ الْمَرْأَۃُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، اجْعَلْ عَلِیًّا بَیْنِی وَبَیْنَہُ ، قَالَ لِعَلِیٍّ : اقْضِ بَیْنَہُمَا یَا عَلِیُّ ، قَالَ عَلِیٌّ : ہَذِہِ الْوَدِیعَۃُ عِنْدِی ، وَقَدْ أَمَرْتُماہَا أَلاَّ تَدْفَعَ إلَی وَاحِدٍ مِنْکُمَا حَتَّی تَجْتَمِعَا عِنْدَہَا ، فَأْتِنِی بِصَاحِبِکَ ، فَلَمْ یُضَمِّنْہَا ، قَالَ : فَرَأَوْا أَنَّہُمَا إنَّمَا أَرَادَا أَنْ یَذْہَبَا بِمَالِ الْمَرْأَۃِ۔
(٢٣٧٣٤) حضرت زاذان سے مروی ہے کہ دو شخصوں نے ایک خاتون کے پاس امانت رکھوانا چاہی اور ان دونوں نے اس سے کہا کہ ہم میں سے کسی کو یہ مت دینا مگر جب ہم دونوں ایک ساتھ آجائیں ، پھر وہ دونوں چلے گئے اور کہیں غائب ہوگئے، پھر کچھ عرصہ بعد ان میں سے ایک آیا اور خاتون سے کہا کہ میری امانت میرے حوالے کرو میرا دوست فوت ہوچکا ہے، اس خاتون نے انکار کیا یہاں تک کہ ان کا اختلاف بہت زیادہ ہوگیا، پھر خاتون نے اس کے حوالہ کردیا، پھر کچھ عرصہ بعد دوسرا آیا اور کہا کہ میری امانت میرے حوالہ کرو ، خاتون نے کہا کہ تیرا دوست آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا دوست فوت ہوگیا ہے اور وہ تمہاری امانت مجھ سے لے گیا ہے، وہ دونوں جھگڑا حضرت عمر (رض) کی خدمت میں لے گئے، جب حضرت عمر (رض) کو مکمل واقعہ سنایا تو حضرت عمر (رض) نے اس خاتون سے فرمایا : میرا نہیں خیال مگر یہ کہ تو ضامن ہے۔ خاتون نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! حضرت علی (رض) کو ہمارے درمیان حَکَم بنادیں۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی سے فرمایا : ان کے درمیان فیصلہ کرو، حضرت علی نے فرمایا، یہ امانت میرے پاس ہے، اور تم نے اس عورت کو یہ حکم بھی دیا تھا کہ ہم میں سے کسی کو یہ ودیعت نہیں دینی، جب تک کہ دونوں اکٹھے حاضر نہ ہوجائیں۔ لہٰذا پہلے تو اتنا دوسرا ساتھی لے کر آ۔ آپ نے خاتون کو ضامن نہیں بنایا، راوی فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں اس خاتون کا مال لے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔