(۲۳۸۰۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ سُہَیلٍ الْغُدَانِی ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ نَسَّاجٌ فِی بَیْتِہِ غُزُولُ النَّاسِ ، فَاحْتَرَقَ بَیْتُہُ فَاحْتَرَقَتْ غُزُولُ النَّاسِ ، فَبَقِیَ ثَلاَثُ کُبَّاتٍ ، فَانْطَلَقَ بِہَا إلَی شُرَیْحٍ وَمَعَہُ امْرَأَتَانِ ، فَقَالَتْ إحْدَاہُمَا : ہُوَ غَزْلِی ، وَقَالَتِ الأُخْرَی : لاَ وَاللَّہِ ہُوَ غَزْلِی ، فَخَلَّی بِإِحْدَاہُمَا فَقَالَ : عَلَی أَیْشٍ کَبَّبْت غَزْلَک ؟ قَالَتْ : عَلَی قِشْرِ جَوْزَۃٍ ، وَقَالَ لِلأُخْرَی : عَلَی أَیْشٍ کببت غَزْلَک ؟ قَالَتْ : عَلَی کِسْرَۃِ خُبْزٍ ، فَقَالَ : یَا نَسَّاجُ ، اذْہَبْ فَانْقُضْ ہَذَا الْغَزْلَ ، فَإِنْ کَانَ عَلَی قِشْرَۃِ جَوْزَۃٍ فَادْفَعْہُ إلَی ہَذِہِ ، وَإِنْ کَانَ عَلَی کِسْرَۃِ خُبْزٍ فَادْفَعْہُ إلَی ہَذِہِ۔
(٢٣٨٠٤) حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک اون بننے والا (سوت کاتنے والا) تھا، جس کے گھر لوگوں کے سوت تھے، اس کے گھر کو آگ لگ گئی، اس آگ میں لوگوں کے سوت بھی جل گئے، اس کے پاس صرف تین گولے اون کے رہ گئے، وہ ان کو لے کر حضرت شریح کے پاس آگیا اور اس کے ساتھ دو خواتین تھیں، ان میں سے ایک نے کہا یہ میرا سوت ہے اور دوسری خاتون نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم یہ میری ہے، انھوں نے ان میں سے ایک کو الگ کیا، اور اس سے دریافت کیا تو نے کس چیز پر سوت کا گولا بنایا تھا ؟ اس نے کہا : اخروٹ کے چھل کہ پر، اور دوسری خاتون سے دریافت کیا کہ تو نے کس چیز پر سوت کا گولا بنایا تھا ؟ اس نے کہا روٹی کے ٹکڑے پر، آپ نے فرمایا : اے سوت کاتنے والے چلا جا اس سوت کے گولے تو ادھیڑ کر دیکھو اگر یہ اخروٹ کے چھل کہ پر ہو تو اس کو دے دو ، اور اگر روٹی کے ٹکڑے پر ہو تو پھر اس کو دے دو ۔