(۲۳۸۰۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ رِفَاعَۃَ ألأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : قِیلَ لِرَجُلٍ : ذُکِرَ أَنَّک تُرِید أَنْ تَبْتَاعَ فُلاَنَۃَ وَلِیدَۃً سَمَّوْہَا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : ہِیَ حُرَّۃٌ إنِ ابْتَعْتہَا ، فَزَعَمَ عَبْدُ اللہِ أَنَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلاَ أَرَاہُ شَیْئًا ، وَأَمَّا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَیَأْبَاہُ۔
(٢٣٨٠٨) حضرت عبداللہ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو کہا گیا، تو فلاں باندی کو فروخت کرنے کا ارادہ کررہا ہے، اس شخص نے کہا : اگر میں نے اس کو فروخت کردیا تو وہ آزاد ہے، حضرت عبداللہ نے گمان کیا کہ حضرت سعید بن المسیب سے دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا : میں تو بہرحال کوئی خرابی نہیں سمجھتا، اور حضرت عمر بن عبد العزیز اس سے منع فرماتے۔