(۲۳۸۴۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِی الأَخْضَرِ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی ہِشَامٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْخَثْعَمِیِّ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُثْمَانَ فَقَالَ : مَنْ ہَاہُنَا مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ؟ فَقُمْت فَقَالَ : أَبْلِغْ مُعَاوِیَۃَ إذَا غَنِمَ غَنِیمَۃً أَنْ یَأْخُذَ خَمْسَۃَ أَسْہُمٍ ، فَلْیَکْتُبْ عَلَی سَہْمٍ مِنْہَا لِلَّہِ ، ثُمَّ لِیُقْرِعْ ، فَحَیْثُ مَا خَرَجَ مِنْہَا فَلْیَأْخُذْہُ۔
(٢٣٨٤٩) حضرت مالک بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کی خدمت میں تھے، آپ نے فرمایا کہ یہاں شام والوں میں سے کوئی ہے ؟ میں کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا حضرت معاویہ کو یہ پیغام پہنچا دو کہ : جب مال غنیمت آئے تو اس میں پانچ حصے الگ کردو، پھر اس میں سے ایک حصہ پر لکھ لو کہ یہ اللہ کے لیے ہے، پھر قرعہ ڈالو، پھر جو اس میں نکلے اس کو لے لو۔