(۲۳۸۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَقُولُ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً جَائَ إلَی صَیْرَفِیٍّ بِدِینَارٍ فَصَرَفَہُ عِنْدَہُ بِعَشَرَۃِ دَرَاہِمَ ، فَقَبَضَ الدِّینَارَ ، وَلَیْسَ عِنْدَ الصَّیْرَفِیِّ دَرَاہِم ؟ قَالَ : إنِ احْتَالَہَا لَہُ قَبْلَ أَنْ یَفْتَرِقَا فَإِنَّ الْبَیْعَ جَائِزٌ ، لأَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا ثَمَنٌ لِصَاحِبِہِ ، وَلَوْ کَانَ عَرَضًا فَسَدَ الْبَیْعُ۔
(٢٣٨٦٧) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص زرگر کے پاس دینار لے کر آئے اور اس کے پاس درہم کے ساتھ تبدیل کرے، اور وہ دینار پر قبضہ کرلے اور زرگر کے پاس دراہم نہ ہوں ؟ فرمایا : اگر انھوں نے جدا ہونے سے پہلے اس کے لیے تبدیل کرلیا ہے تو بیع جائز ہے، اس لیے کہ ان میں سے ہر ایک کا ثمن دوسرے پر ہے، اور اگر وہ سامان تھا تو بیع فاسد ہوجائے گی۔