(۲۳۸۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : قیلَ لِلرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ فِی مَرَضِہِ : أَلاَ نَدْعُو لَکَ الطَّبِیبَ ؟ فَقَالَ : أَنْظِرُونِی ، ثُمَّ تَفَکَّرَ فَقَالَ : {وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکَُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا} فَذَکَرَ مِنْ حِرْصِہِمْ عَلَی الدُّنْیَا وَرَغْبَتِہِمْ فِیہَا ، قَالَ : فَقَدْ کَانَتْ مَرْضَی ، وَکَانَ فِیہِمْ أَطِبَّائُ ، فَلاَ الْمُدَاوِی ، وَلاَ الْمُدَاوَی ، ہَلَکَ النَّاعِتُ وَالْمَنْعُوتُ لَہُ ، وَاللَّہِ لاَ تَدْعُوا لِی طَبِیبًا۔
(٢٣٨٩٤) حضرت عبد الملک بن عمیر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو ان کی بیماری میں پوچھا گیا کہ کیا ہم آپ کے لیے طبیب کو بُلائیں ؟ انھوں نے فرمایا۔ تم مجھے مہلت دے دو ، پھر انھوں نے غور و فکر فرمایا اور کہا : { وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکَُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر انھوں نے ان لوگوں دنیا پر حرص اور ان کی دنیا میں دلچسپی کا ذکر کیا، فرمایا : یہ لوگ بھی مریض تھے۔ اور ان میں اطباء بھی تھے۔ پس نہ کوئی دوائی لینے والا ہے نہ کوئی دوائی دینے والا ہے۔ تعریف کرنے والا بھی ہلاک ہوگیا اور جس کی تعریف کی گئی وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ خدا کی قسم ! تم لوگ میرے لیے طبیب کو نہ بلاؤ۔