(۲۴۰۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : بَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ یُصَلِّی ، فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ فَلَدَغَتْہُ عَقْرَبٌ ، فَتَنَاوَلَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَعْلِہِ فَقَتَلَہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : لَعَنَ اللَّہُ الْعَقْرَبَ ، لاَ تَدَعُ مُصَلِّیًا ، وَلاَ غَیْرَہُ ، أَوْ نَبِیًّا ، وَلاَ غَیْرَہُ ، ثُمَّ دَعَا بِمِلْحٍ وَمَائٍ فَجَعَلَہُ فِی إِنَائٍ ، ثُمَّ جَعَلَ یَصُبُّہُ عَلَی إِصْبَعِہِ حَیْثُ لَدَغَتْہُ ، وَیَمْسَحُہَا وَیُعَوِّذُہَا بِالْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ (طبرانی ۸۳۰)
(٢٤٠١٩) حضرت علی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے کہ اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک زمین پر رکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی بچھو نے ڈس لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچھو کو اپنے جوتے سے قابو کرلیا اور مار ڈالا۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : ” اللہ کی لعنت ہو بچھو پر، نہ نمازی کو چھوڑتا ہے اور نہ غیر نمازی کو۔ “ یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نبی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نبی کو۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نمک اور پانی منگوایا اور اس کو ایک برتن میں رکھ دیا۔ پھر جس جگہ بچھو نے ڈسا تھا اس جگہ یہ پانی ڈالنا شروع کیا اور اس کو ملنے لگے اور اس پر معوذتین پڑھ کر دم فرمایا۔