(۲۴۰۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ ثُوَیْبٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَکِی ، فَقَالَ : أَلاَ أَرْقِیکَ بِرُقْیَۃٍ عَلَّمَنِیہَا جِبْرِیلُ ، بِسْمِ اللہِ أَرْقِیکَ ، وَاللَّہُ یَشْفِیکَ ، مِنْ کُلِّ إِربٍ یُؤْذِیکَ ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔ (احمد ۲/۴۴۶۔ ابن ماجہ ۳۵۲۴)
(٢٤٠٣٤) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے جبکہ مجھے کوئی تکلیف تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” کیا میں تمہیں اس رقیہ کے ذریعہ دم نہ کروں جو مجھے جبرائیل نے سکھایا تھا، اللہ کے نام سے میں تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہں شفاء دے ہر اس مصیبت سے جو تمہیں اذیت دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ “