(۲۴۰۴۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، قَالَ: حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، قَالَ : حَدَّثَنِی سِمَاکٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ قِدْرًا لَنَا فَاحْتَرَقَتْ یَدَیَّ ، فَانْطَلَقَتْ بِی أُمِّی إِلَی رَجُلٍ جَالِسٍ فِی الْجَبَّانَۃِ ، فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللہِ، فَقَالَ: لَبَّیْکِ وَسَعْدَیْکِ ، ثُمَّ أَدْنَتْنِی مِنْہُ ، فَجَعَلَ یَنْفُثُ وَیَتَکَلَّمُ بِکَلاَمٍ لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ، فَسَأَلْتُ أُمِّی بَعْدَ ذَلِکَ: مَا کَانَ یَقُولُ؟ فَقَالَتْ: کَانَ یَقُولُ: أَذْہِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی، لاَ شَافِیَ إِلاَّ أَنْتَ۔
(ابن سعد ۶۵۰)
(٢٤٠٤١) حضرت محمد بن حاطب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک ہانڈی کو پکڑ لیا تھا اور میرا ہاتھ جل گیا تھا تو میری والدہ مجھے لے کر ایک آدمی کے پاس چلی گئی جو ایک ہموار زمین میں بیٹھا ہوا تھا، اور میری والدہ نے کہا، یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! انھوں نے جواب دیا : ” حاضر ہوں “ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کیا، پس انھوں نے کچھ کلمات کہنا شروع کیے، مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کلمات کیا ہیں اور پھونک مارنا شروع کیا، پھر میں نے اس کے بعد اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ تو والدہ نے بتایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھ رہے تھے۔ (ترجمہ) ” اے لوگو کے پروردگار ! تکلیف کو دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ “