hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24059

.

ابن أبي شيبة

24059
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۰۶۰) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِیسَی ، عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ ہِنْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَسَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ نَلْتَمِسُ الْخَمِرَ ، فَوَجَدْنَا خَمِرًا، أَوْ غَدِیرًا ، وَکَانَ أَحَدُنَا یَسْتَحْیِی أَنْ یَغْتَسِلَ وَأَحَدٌ یَرَاہُ ، فَاسْتَتَرَ مِنِّی حَتَّی إِذَا رَأَی أَنْ قَدْ فَعَلَ ، نَزَعَ جُبَّۃً عَلَیْہِ مِنْ کِسَائٍ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَائَ ، فَنَظَرْتُ إِلَیْہِ فَأَعْجَبَنِی خَلْقُہُ ، فَأَصَبْتُہُ مِنْہَا بِعَیْنٍ ، فَأَخَذَتْہُ قَفْقَفَۃٌ وَہُوَ فِی الْمَائِ، فَدَعَوْتُہُ فَلَمْ یُجِبْنِی، فَانْطَلَقْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قُومُوا، فَأَتَاہُ، فَرَفَعَ عَنْ سَاقِہِ، ثُمَّ دَخَلَ إِلَیْہِ الْمَائَ، فَلَمَّا أَتَاہُ ضَرَبَ صَدْرَہُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ أَذْہِبْ حَرَّہَا وَبَرْدَہَا وَوَصَبَہَا ، ثُمَّ قَالَ : قُمْ ، فَقَامَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مِنْ نَفْسِہِ، أَوْ مَالِہِ ، أَوْ أَخِیہِ ، مَا یُعْجِبُہُ ، فَلْیَدْعُ بِالْبَرَکَۃِ ، فَإِنَّ الْعَیْنَ حَقٌّ۔ (احمد ۴۴۷۔ حاکم ۲۱۵)
(٢٤٠٦٠) حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور سہل بن حنیف چلے اور ہم کسی اوٹ کی تلاش میں تھے۔ چنانچہ ہم نے کوئی اوٹ یا کنواں پایا اور ہم میں سے ہر ایک اس بات سے شرماتا تھا کہ وہ غسل کرے اور اسے کوئی دیکھے۔ چنانچہ انھوں نے میرے آگے پردہ کیا یہاں تک کہ جب انھوں نے یہ دیکھا کہ میں غسل کرچکا ہوں تو انھوں نے وہ چادر کا جبہ اتار دیا جو انھوں نے پہنا ہوا تھا۔ اور پھر وہ پانی میں داخل ہوگئے۔ پس میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے ان کی ساخت بہت خوبصورت لگی جس کی وجہ سے انہں امیری نظر لگ گئی۔ پس انھوں نے پانی میں ہی خوب کپکپانا شروع کیا۔ میں نے انھیں بلایا لیکن انھوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ چنانچہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چلا گیا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساری بات بتائی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اٹھو “۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان (سہل) کے پاس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پنڈلی مبارک سے (کپڑا) اٹھایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف پانی میں داخل ہوگئے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سینہ پر مارا اور پھر فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی سردی، گرمی اور درد کو دور کر دے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اٹھ کھڑا ہو “ چنانچہ وہ کھڑے ہوگئے، اس پر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے آپ یا اپنے مال یا اپنے بھائی سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کو بہت پیاری لگے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ نظر برحق ہے۔ “