(۲۴۰۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَلْقَی مِنْ رُؤْیَۃِ الْغُولِ وَالشَّیَاطِینِ بَلاَئً وَأَرَی خَیَالاً ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ فَقَالَ : أَخْبِرنِی عَلَی مَا رَأَیْتَ ، وَلاَ تُفْرَقنَّ مِنْہُ ، فَإِنَّہُ یَفْرَقُ مِنْکَ کَمَا تَفْرَقُ مِنْہُ ، وَلاَ تَکُنْ أَجْبَنَ السَّوَادَیْنِ ، قَالَ مُجَاہِدٌ : فَرَأَیْتُہُ فَأَسْنَدْتُ عَلَیْہِ بِعَصَا حَتَّی سَمِعْتُ وَقْعَتَہُ۔
(٢٤٠٦٩) حضرت مجاہد سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھے شیاطین وغیرہ کی طرف برے برے خیالات و تصورات آتے تھے۔ میں نے حضرت ابن عباس سے (اس کے بارے میں) پوچھا۔ تو انھوں نے فرمایا : تم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ مجھے بھی بتاؤ۔ اس سے ڈرو نہیں۔ کیونکہ جس طرح تم اس سے ڈرتے ہو وہ بھی تم سے ڈرتے ہیں۔ تم اس سے بھی زیادہ ڈرپوک نہ بنو۔ حضرت مجاہد کہتے ہیں۔ میں نے پھر دوبارہ یہ دیکھا تو میں نے اس کو لاٹھی ماری یہاں تک کہ میں نے ضرب کی آواز بھی سُنی۔