(۲۴۱۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنْ سَہْلٍ أَبِی الأَسَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : جَائَ ظِِئْرٌ لَنَا إِلَی عَبْدِ اللہِ بِصَبِیٍّ لَہُمْ قَدْ سَقَطَتْ لَہَاتُہُ ، فَأَرَادُوا أَنْ یَقْطَعُوہَا ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لاَ تَقْطَعُوہَا ، وَلَکِنْ إِنْ کَانَ فِی أَجَلِہِ تَأْخِیرٌ بَرَأَ ، وَإِلاَّ لَمْ تَکُونُوا قَطَعْتُمُوہَا۔
(٢٤١٠٥) حضرت عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہماری ایک دائی ، حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی جس کے حلق کا کوا گر چکا تھا اور ان لوگوں کا ارادہ اس گرے ہوئے کوے کو کاٹنے کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا تم اس کو نہ کاٹو۔ ہاں اگر اس کی موت میں کچھ تاخیر ہوئی تو یہ صحت یاب ہوجائے گا بصورت دیگر تم نے اس کو کاٹا تو نہیں ہوگا۔