(۲۴۱۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو رَجَائٍ ، مَوْلَی أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکَلٍ ثَمَانِیَۃً قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَبَایَعُوہُ عَلَی الإِسْلاَمِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ ، وَسَقِمَتْ أَجْسَادُہُمْ ، فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلاَ تَخْرُجُون مَعَ رَاعِینَا فِی إِبِلِہِ فَتُصِیبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا ؟ قَالُوا : بَلَی ، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا۔ (بخاری ۶۸۹۹۔ مسلم ۱۲)
(٢٤١١٥) حضرت ابو قلابہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا کہ قبیلہ رعل کے آٹھ افراد کا ایک گروہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام پر بیعت کی۔ لیکن انھیں (مدینہ کی) زمین موافق نہیں آئی چنانچہ ان کے جسم بیمار پڑگئے اور انھوں نے اس بات کی شکایت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ہمارے چرواہے کے ہمراہ اس کے اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے کہ تم ان اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو استعمال کرو ؟ “ انھوں نے کہا : کیوں نہیں، چنانچہ وہ لوگ چلے گئے اور انھوں نے اونٹوں کے پیشاب اور دودھ کو پیا۔