(۲۴۱۲۶) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، قَالَ : وَصَفَ لِی أَبُو قِلاَبَۃَ صِفَۃَ التِّرْیَاقِ ، فَقَالَ : یَخْرُجُ رِجَالٌ عَلَیْہِمْ خِفَافٌ مِنْ خَشَبٍ ، وَبِأَیْدِیہِمْ شَیْئٌ قَدْ ذَکَرَہُ ، فَیَصِیدُونَ الْحَیَّاتِ ، فَیَمْسَحُونَ مَا یَلِی رُؤُوسَہَا وَأَذْنَابَہَا ، لِیَجْمع مَا کَانَ مِنْ دَمٍ ، ثُمَّ یَطْرَحُونَہَا فِی الْقِدْرِ فَیَطْبُخُونَہَا ، فَذَاکَ أَجْوَدُ التِّرْیَاقِ۔
(٢٤١٢٦) حضرت خالد حذاء سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ابو قلابہ نے مجھے تریاق کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا، کچھ لوگ نکلتے ہیں انھوں نے لکڑی کی جوتیاں پہنی ہوتی ہیں اور ان کے ہاتھوں میں بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ابو قلابہ نے اس چیز کا ذکر بھی کیا تھا، پس یہ لوگ سانپوں کو شکار کرتے ہیں اور ان کے سروں اور دموں پر جو کچھ ہوتا ہے۔ اس کو صاف کرتے ہیں تاکہ جو خون وغیرہ وہ جمع ہوجائے، پھر وہ سانپوں کو ہانڈی میں ڈال دیتے ہیں اور اس کو پکاتے ہیں، پس یہ بہترین تریاق ہوتا ہے۔