(۲۴۱۳۳) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی صَعْصَعَۃَ ، عَنْ یَعْقُوب بْن أَبِی یَعْقُوب ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْعَدَوِیَّۃِ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ عَلِیٌّ وَہُوَ نَاقِہٌ ، وَلَنَا دَوَالِی مُعَلَّقَۃٌ ، قَالَتْ : فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَکَلَ ، وَقَامَ عَلِیٌّ فَأَکَلَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَہْلاً فَإِنَّک نَاقِہٌ ، قَالَ : فَجَلَسَ عَلِیٌّ ، وَأَکَلَ مِنْہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَنَعْتُ لَہُمْ سِلْقًا وَشَعِیرًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ : مِنْ ہَذَا أَصِبْ۔ (ابوداؤد ۳۸۵۲۔ ترمذی ۲۰۳۷)
(٢٤١٣٣) حضرت ام منذر عدویہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت علی بھی تھے اور وہ صحت یابی کے بعد کمزور تھے۔ ہماری نیم پختہ کھجوریں لٹکی ہوئی تھیں۔ حضرت ام منذر کہتی ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجوریں تناول فرمائیں اور حضرت علی بھی کھڑے ہوئے اور کھانے لگے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم رہنے دو کیونکہ تم کمزور ہو “ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی بیٹھ گئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کھجوروں میں سے تناول فرماتے رہے، پھر میں (ام منذر) نے ان کے لیے سبزی اور جو پکائے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : ” اس میں سے تناول کرو۔ “