(۲۴۱۳۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتُبِسْتُ أَیَّامًا ، فَقَالَ : مَا حَبَسَکَ ؟ قُلْتُ : الْحُمَّی ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْحُمَّی مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوہَا بِمَائِ زَمْزَمَ۔ (احمد ۱/۲۹۱۔ حاکم ۴۰۳)
(٢٤١٣٩) حضرت ابو جمرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کے ہاں سب سے زیادہ آنے والا تھا۔ چند دن تک میں محبوس رہا تو انھوں نے پوچھا، تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ میں نے عرض کیا، بُخار نے۔ انھوں نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ ” یقیناً بخار جہنم کی لپٹ میں سے ہے پس تم اس کو زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرو۔ “