hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 2414

.

ابن أبي شيبة

2414
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۱۴) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَاجِشُونُ عَمِّی، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : وَجَّہْت وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، إنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَبِذَلِکَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُک ، ظَلَمْت نَفْسِی ، وَاعْتَرَفْت بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ یَہْدِینی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا لاَ یَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، وَالْخَیْرُ کُلُّہُ فِی یَدَیْک ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْک ، تَبَارَکْت وَتَعَالَیْت ، أَسْتَغْفِرُک وَأَتُوبُ إلَیْک۔ (مسلم ۲۰۱۔ ترمذی ۳۴۲۱)
(٢٤١٤) حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات ارشاد فرماتے (ترجمہ) میں نے اپنا چہرہ یکسوہو کر اس ذات کی طرف پھیرلیا جس نے زمینوں اور آسمانوں کو وجودبخشا ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسلام لانے والوں میں ابتداء کرنے والا ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے سارے گناہوں کو معاف فرمادے، یقیناً تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا اچھے اخلاق کی ہدایت کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے برے اخلاق سے محفوظ فرما تیرے سوا مجھے برے اخلاق سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھ کر حاضر ہوں۔ ساری کی ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، میرا سہارا اور مرجع تو ہی ہے، تو بابرکت ہے اور تو بلند ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔