(۲۴۲۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مَرْیَمَ بِنْتِ طَارِقٍ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ فِی نِسَائٍ مِنْ نِسَائِ الأَنْصَارِ ، فَجَعَلْنَ یَسْأَلْنَہَا عَنِ الظُّرُوفِ الَّتِی یُنْبَذُ فِیہَا ؟ فَقَالَتْ : یَا نِسَائَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّکُنَّ لَتُکثرن ظُرُوفًا وَتَسْأَلْنَ عنہا ، مَا کَانَ کَثِیرٌ مِنْہَا عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاتَّقِینَ اللَّہَ ، وَمَا أَسْکَرَ إِحْدَاکُنَّ مِنَ الأَشْرِبَۃِ فَلْتَجْتَنِبْہُ ، وَإِنْ أَسْکَرَ مَائُ حُبِّہَا ، فَإِنَّ کُلَّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔ (حاکم ۱۴۷)
(٢٤٢٢٢) حضرت مریم بنت طارق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں انصار کی عورتوں کے ہمراہ حضرت عائشہ کے ہاں گئی۔ ان انصاری خواتین نے حضرت عائشہ سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جن میں نبیذ بنائی جاتی تھی ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا : اے اہل ایمان کی عورتو ! یقیناً تم نے برتین بہت بڑھا لیئے ہیں اور ان کے بارے میں تم سوال کر رہی ہو۔ ان میں سے بہت سے برتن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں نہیں تھے۔ پس تم اللہ سے ڈرو، مشروبات میں سے جو مشروب تم میں سے کسی کو نشہ دے تو وہ اس مشروب سے اجتناب کرے۔ اگرچہ اس کے گھڑے کا پانی اس کو نشہ دے۔ کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔