(۲۴۲۲۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ حُرَیْثٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ، قَالَ : تَذَاکَرْنَا الطِّلاَئَ ، فَدَخَلَ عَلَیْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ فَتَذَاکَرْنَاہُ فَقَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو مَالِکٍ الأَشْعَرِیُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: یَشْرَبُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِی الْخَمْرَ ، یُسَمُّونَہَا بِغَیْرِ اسْمِہَا ، یُضْرَبُ عَلَی رُؤُوسِہِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْقَیْنَاتِ ، یَخْسِفُ اللَّہُ بِہِمُ الأَرْضَ ، وَیَجْعَلُ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیرَ۔
(ابوداؤد ۳۶۸۱۔ احمد ۵/۳۴۲)
(٢٤٢٢٧) حضرت مالک بن ابی مریم سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے باہم طلاء ۔۔۔انگور کے شیرہ کا پختہ مشروب ۔۔۔ کا تذکرہ کیا۔ اس دوران عبد الرحمن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان کو بھی مذاکرہ میں شریک کرلیا۔ تو انھوں نے فرمایا : مجھ سے ابومالک اشعری نے بیان کیا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے کچھ لوگ شراب نوشی کریں گے لیکن وہ اس کا نام شراب نہیں رکھیں گے، ان کے سروں پر باجوں اور مغنیا ت کو بجایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دیں گے اور ان میں سے (کچھ کو) بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا۔ “