hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24290

.

ابن أبي شيبة

24290
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۲۹۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَعْلَی بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ صُہَیْرَۃَ بِنْتِ جَیْفَرٍ ، سَمِعَہُ مِنْہَا ، قَالَتْ : حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَدَخَلْنَا عَلَی صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ ، فَوَافَقْنَا عِنْدَہَا نِسْوَۃً مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، فَقُلْنَ لَنَا : إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ ، وَإِنْ شِئْتُنَّ اسْأَلْنَ وَسَمِعْنَا ، فَقُلْنَ : سَلْنَ ، فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْیَائَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَۃِ وَزَوْجِہَا ، وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِیضِ ، وَسَأَلْنَ عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ ، فَقَالَتْ : أَکْثَرْتُنَّ یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ عَلَیْنَا فِی نَبِیذِ الْجَرِّ ، حَرَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیذَ الْجَرِّ ، مَا عَلَی إِحْدَاکُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَہَا ، ثُمَّ تَدْلُکُہُ ، ثُمَّ تُصَفِّیہِ فَتَجْعَلُہُ فِی سِقَائِہَا ، وَتُوکِئُ عَلَیْہِ ، فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَہَا۔ (احمد ۶/۳۳۷۔ ابویعلی ۷۱۱۷)
(٢٤٢٩١) حضرت صُہَیرہ بنت جیفر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم نے (ایک مرتبہ) حج ادا کیا پھر ہم مدینہ کی طرف واپس آئے اور ہم حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پر ہمیں اتفاق سے اہل کوفہ کی کچھ خواتین مل گئیں۔ انھوں نے ہم سے کہا۔ اگر تم چاہتی ہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم (چپ کر کے) سنو اور اگر تم چاہتی ہو تو تم سوال کرلو ہم سماعت کرلیں گی۔ ہم نے کہا : تم پوچھو۔ پس انھوں نے میاں ، بیوی کے بہت سے امور کے بارے میں اور حائضہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور انھوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضرت صفیہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! تم نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں ہم سے بکثرت سوالات کیے ہیں جبکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ تم میں سے کسی پر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی کھجور کو پکاتی ہے۔ پھر اس کو ملتی ہے، صاف کرتی ہے پھر اس کو مشکیزہ میں ڈالتی ہے اور اس پر کوئی ڈوری وغیرہ باندھ کر اس کا منہ بند کردیتی ہے پس جب وہ مشروب لذت آمیز ہوجاتا ہے تو خود بھی پیتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی پلاتی ہے ؟۔