(۲۴۳۱۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَفْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَتْ : کُنْتُ أَمْغَثُ لِعُثْمَانَ الزَّبِیبَ غَدْوَۃً فَیَشْرَبُہُ عَشِیَّۃً ، أَوْ أَمْغَثُہُ عَشِیَّۃً فَیَشْرَبُہُ غَدْوَۃً ، فَقَالَ لَہَا عُثْمَانُ : لَعَلَّکِ تَجْعَلِینَ فِیہِ زَہْوًا ؟ قَالَتْ : رُبَّمَا فَعَلْتُ ، قَالَ ، فَلاَ تَفْعَلِی۔
(٢٤٣١٥) حضرت عبد الواحد بن صفوان بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سُنا وہ اپیش والدہ سے بیان کرتے تھے کہ وہ کہتی ہیں۔ میں حضرت عثمان کے لیے صبح کے وقت کشمش مل دیتی تھی۔ جس کو وہ شام کے وقت پیتے تھے اور (اسی طرح) میں آپ کے لیے شام کو کشمش مَل دیتی تھی جس کو آپ صبح کے وقت پیتے تھے۔ پھر حضرت عثمان نے (ایک دن) ان (خاتون صفیہ) سے کہا۔ شاید کہ آپ اس میں کھجوریں بھی ڈالتی ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ کبھی کبھی یہ کرتی ہوں تو حضرت عثمان نے فرمایا : یہ کام نہ کرو۔