(۲۴۳۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَعْرَسْتُ فَدَعَوْتُ أَصْحَابَ عَلِیٍّ ، وَأَصْحَابَ عَبْدِ اللہِ ، مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ ؛ عُمَارَۃُ بْنُ عَبْدٍ ، وَہُبَیْرَۃُ بْنُ یَرِیْمَ ، وَالْحَارِثُ الأَعْوَرُ ، وَمِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ ؛ عَلْقَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ یَزِیدَ ، وَعَبْدُ اللہ بْنُ ذِئْبٍ ، فَنَبَذْت لَہُمْ فِی الْخَوَابِی ، فَکَانُوا یَشْرَبُونَ مِنْہَا ، فَقُلْتُ : وَہُمْ یَرَوْنَہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا۔
(٢٤٣٦٣) حضرت ابو اسحق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ولیمہ کیا تو میں نے حضرت علی اور حضرت عبداللہ کے ساتھیوں کو بلایا۔ حضرت علی کے ساتھیوں میں سے عمارہ بن عبد، ہبیرہ بن یریم، اور حارث بن اعور کو بلایا اور حضرت عبداللہ کے ساتھیوں میں سے علقمہ بن ق سے، عبد الرحمن بن یزید، اور عبداللہ بن ذئب کو بلایا، پس میں نے ان کے لیے مٹکوں میں نبیذ تیار کی پس وہ ان مٹکوں میں سے پیتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا۔ وہ مٹکوں کو دیکھ رہے تھے ؟۔ ابو اسحق نے کہا۔ ہاں۔ وہ مٹکوں کو دیکھ رہے تھے۔