(۲۴۳۶۸) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُجِیبَۃَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَمِّہِ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ، قَالَ : جَلَسْنَا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَیْسِ فَقَالَ : مَا لَکُمْ قَدِ اصْفَرَّتْ أَلْوَانُکُمْ ، وَعَظُمَتْ بُطُونُکُمْ ، وَظَہَرَتْ عُرُوقُکُمْ ؟ قَالَ : قَالُوا : أَتَاکَ سَیِّدُنَا فَسَأَلَکَ عَنْ شَرَابٍ کَانَ لَنَا مُوَافِقًا فَنَہَیْتَہُ عَنْہُ ، وَکُنَّا بِأَرْضٍ مُحِِمَّۃٍ ، قَالَ : فَاشْرَبُوا مَا طَابَ لَکُمْ۔ (طبرانی ۸۲۵۶)
(٢٤٣٦٨) حضرت طلق بن علی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان سے) پوچھا۔ ” تمہیں کیا ہوا ہے کہ تمہارے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں اور تمہارے پیٹ بڑھے ہوئے ہیں اور تمہاری رگں ھ نکلی ہوئی ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے جواب دیا۔ ہمارا سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا تھا جو ہمارے موافق ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اس سے منع کردیا تھا۔ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں بخار کی وبا بہت عام ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو مشروب تمہیں موافق آئے تم وہی پی لو۔ “