(۲۴۳۸۰) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی ہَارُونَ الْغَنَوِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : صَنَعَ قَیْسُ بْنُ عُبَادٍ لأُنَاسٍ مِنَ الْقُرَّائِ طَعَامًا ، ثُمَّ سَقَاہُمْ نَبِیذًا ، ثُمَّ قَالَ : تَدْرُونَ مَا النَّبِیذُ الَّذِی سَقَیْتُکُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، سَقَیْتنَا نَبِیذًا ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُ نَبِیذُ جَرٍّ ، أَوْ جِرَارٍ ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : فَقَالَ : فِیمَا یُنْبَذُ لَکَ ؟ فَدَعَا الْجَارِیَۃَ ، فَجَائَ تْ بِجَرٍّ أَخْضَرَ ، فَقَالَ : یُنْبَذُ لِی فِی ہَذَا۔
(٢٤٣٨٠) حضرت ابو مجلز سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد نے کچھ قراء کے لیے کھانا بنایا پھر انھوں نے ان کو نبیذ پلائی۔ پھر پوچھا۔ جانتے ہو یہ نبیذ جو میں نے تمہیں پلائی ہے۔ یہ کون سی نبیذ ہے ؟ قراء نے کہا۔ ہاں۔ تم نے ہمیں نبیذ پلائی ہے۔ انھوں نے کہا۔ نہیں۔ بلکہ یہ تو گھڑے کی نبیذ تھی۔ پھر یہ صاحب حضرت معقل بن یسار کے پاس چلے گئے۔ راوی کہتے ہں ن۔ اور ان سے کہا۔ آپ کے لیے کس برتن میں نبیذ تیار کی جاتی ہے ؟ چنانچہ انھوں نے لونڈی کو بلایا پس وہ لونڈی سبز رنگ کا گھڑا لے کر آئی۔ حضرت معقل نے کہا۔ میرے لیے اس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے۔