(۲۴۴۰۷) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَکَلْنَا ، ثُمَّ أُتِینَا بِقَدَحٍ مِنْ نَبِیذٍ فَشَرِبَ وَشَرِبْنَا ، حَتَّی انْتَہَی إِلَی ابْنٍ لَہُ ، فَأَبَی أَنْ یَشْرَبَ ، فَأَخَذَ مَعْقِلٌ عَصًی کَانَتْ عِنْدَہُ ، فَضَرَبَ بِہَا رَأْسَہُ فَشَجَّہُ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : أَتَفْعَلُ کَذَا وَکَذَا ، وَذَکَرَ مِنْ مَسَاوِئِہِ وَتَأْبَی أَنْ تَشْرَبَ مِنْ شَرَابٍ شَرِبَہُ أَبُوکَ وَعُمُومَتُکَ ، لأَنَّہُ نَبِیذُ جَرٍّ ؟۔
(٢٤٤٠٧) حضرت عقبہ بن میسرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت معقل بن یسار کے ہاں تھے تو انھوں نے کھانا منگوایا۔ پھر ہمارے پاس نبیذ کا پیالہ لایا گیا پس حضرت معقل نے بھی پیا اور ہم نے بھی پیا۔ یہاں تک کہ وہ پیالہ حضرت معقل کے بیٹے کے پاس پہنچا۔ انھوں نے پنے ل سے انکار کردیا۔ تو حضرت معقل نے اپنے پاس موجود عصا پکڑا۔ وہ اس کے سر پردے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ پھر حضرت معقل نے بیٹے سے کہا۔ کیا تو یہ یہ کام کرتا ہے ۔۔۔ حضرت معقل نے اس کے نامناسب افعال ذکر کئے ۔۔۔ اور اس مشروب کے پینے سے انکار کرتا ہے جس کو تیرے باپ اور چچاؤں نے پیا ہے۔ (صرف) اس لیے کہ یہ گھڑے کی نبیذ ہے ؟