(۲۴۴۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ غَسَّانَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ ابْنِ الرَّسِیمِ ، وَکَانَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ ہَجَرَ ، وَکَانَ فَقِیہًا حَدَّثَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ انْطَلَقَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَفْدٍ فِی صَدَقَۃٍ یَحْمِلُہَا إِلَیْہِ ، قَالَ : فَنَہَاہُمْ عَنِ النَّبِیذِ فِی ہَذِہِ الظُّرُوفِ ، فَرَجَعُوا إِلَی أَرْضِہِمْ ، وَہِیَ أَرْضُ تِہَامَۃَ حَارَّۃً ، فَاسْتَوْخَمُوہَا ، فَرَجَعُوا إِلَیْہِ الْعَامَ الثَّانِیَ فِی صَدَقَاتِہِمْ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّک نَہَیْتَنَا عَنْ ہَذِہِ الأَوْعِیَۃِ فَتَرَکْنَاہَا ، وَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْنَا ، فَقَالَ : اذْہَبُوا فَاشْرَبُوا فِیمَا شِئْتُمْ، مَنْ شَائَ أَوْکَی سِقَائَ ہُ عَلَی إِثْمَ۔ (احمد ۳/۴۸۱۔ طبرانی ۴۶۳۴)
(٢٤٤١٧) حضرت ابن رسیم سے ۔۔۔یہ اہل ہجر میں سے ایک شخص تھے اور فقیہ تھے ۔۔۔ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک وفد میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ وفد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ لے کر گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفد والوں کو ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا۔ چنانچہ وہ لوگ اپنے علاقہ میں واپس چلے گئے۔ وہ تہامہ کا علاقہ گرم تھا۔ پس ان لوگوں کو یہ زمین موافق ثابت ہوگئی۔ پھر وہ اگلے سال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنے صدقات لے کر حاضر ہوئے اور انھوں نے بتایا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمیں ان برتنوں سے منع کیا تھا پس ہم نے وہ برتن چھوڑ دئیے لیکن ہمیں اس پر بہت مشقت ہوئی۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم جاؤ اور جس میں چاہو پیو، جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزہ کو گناہ پر باندھ لے۔ “