(۲۴۴۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَرِیرٍ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِلَی حَمَّامٍ لَہُ بِالْعَاقُولِ ، فَأُتِینَا بِطَعَامٍ فَأَکَلْنَا ، ثُمَّ أُتِینَا بِعَسَلٍ وَطِلاَئٍ ، فَقَالَ : جَرِیرٌ : اشْرَبُوا أَنْتُمُ الْعَسَلَ ، وَشَرِبَ ہُوَ الطِّلاَئَ وَقَالَ : إِنَّہُ یُسْتَنْکَرُ مِنْکُمْ ، وَلاَ یُسْتَنْکَرُ مِنِّی ، قُلْتُ : أَیُّ الطِّلاَئِ ہُوَ ؟ قَالَ : کُنْتُ أَجِدُ رِیحَہُ کَمَکَانِ تِلْکَ ، وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ إِلَی أَقْصَی حَلَقَۃٍ فِی الْقَوْمِ۔
(٢٤٤٧٣) حضرت عثمان بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن جریر کے ہمراہ مقام عاقول میں ان کے حمام کی طرف نکلا، پس ہمارے پاس کھانا لایا گیا، جس کو ہم نے کھایا، پھر ہمارے پاس شہد اور طلاء لایا گیا، جریر نے کہا : تم لوگ شہد پیو اور انھوں نے خود طلاء پیا، اور کہنے لگا۔ یہ (طلائ) پینا تمہاری طرف عجیب سمجھا جائے گا لیکن میری طرف سے عجیب نہیں سمجھا جائے گا۔ میں نے پوچھا، یہ کون سا طلاء ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ میں اس کی بُو کو فلاں جگہ سے پا لیتا ہوں اور (یہ کہہ کر) انھوں نے لوگوں میں سے جو سب سے دور بیٹھا ہوا گروہ تھا اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔