(۲۴۴۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَن مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : کَانَتْ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِیِّ قَرْیَۃٌ یُصْنَعُ لَہُ بِہَا طَعَامٌ ، فَدَعَا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِہِ فَأَکَلُوا ، ثُمَّ أُتُوا بِشَرَابٍ مِنَ الطِّلاَئِ ، وَفِیہِمْ أُنَاسٌ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ ، فَقَالُوا : مَا ہَذَا ؟ قَالُوا : شَرَابٌ یَصْنَعُہُ ابْنُ بِشْرٍ لِنَفْسِہِ ، فَقَالُوا : ہُوَ الرَّجُلُ لاَ یُرْغَبُ عَنْ شَرَابِہِ ، فَشَرِبُوا۔
(٢٤٤٨٢) حضرت موسیٰ بن عبداللہ بن یزید انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن ابن بشر انصاری کے پاس ایک مشک تھا جس میں ان کے لیے کھانا بنایا جاتا تھا، پس انھوں نے اپنے دوستوں میں سے کچھ لوگ کو دعوت دی انھوں نے (حضرت عبد الرحمن کے ہاں) کھانا کھایا پھر ان مہمانوں کے پاس طلاء کا مشروب لایا گیا اور ان مہمانوں میں اہل بدر کے کچھ حضرات بھی تھے۔ انھوں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا۔ یہ ایک مشروب ہے جو حضرت ابن بشر اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس پر اہل بدر نے کہا۔ یہ عبد الرحمن بن بشر ایسا آدمی ہے کہ جس کے مشروب سے اعراض نہیں کیا جاسکتا پس ان اہل بدر نے بھی مشروب پیا۔