hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 24483

.

ابن أبي شيبة

24483
Ibn Abi Shaybah
(۲۴۴۸۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْمُزَنِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ، عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ ؛ أَنَّ الْحَجَّاجَ دَعَاہُ فَقَالَ : أَرِنِی کِتَابَ عُمَرَ إِلَی عَمَّارٍ فِی شَأْنِ الطِّلاَئِ ، فَخَرَجَ وَہُوَ حَزِینٌ، فَلَقِیَہُ الشَّعْبِیُّ فَسَأَلَہُ ، فَأَخْبَرَہُ عَمَا قَالَ لَہُ الْحَجَّاجُ ، فَقَالَ لَہُ الشَّعْبِیُّ : ہَلمَّ صَحِیفَۃً وَدَوَاۃً ، فَوَاللَّہِ مَا سَمِعْتُہُ مِنْ أَبِیکَ إِلاَّ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، فَأَمْلَی عَلَیْہِ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، مِنْ عَبْدِ اللہِ عُمَرَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ إِلَی عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ، أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنِّی أُتِیتُ بِشَرَابٍ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ ، فَسَأَلْتُ عَنْہُ کَیْفَ یُصْنَعُ ؟ فَأَخْبَرُونِی أَنَّہُمْ یَطْبُخُونَہُ حَتَّی یَذْہَبَ ثُلُثَاہُ وَیَبْقَی ثُلُثُہُ ، فَإِذَا فُعِلَ ذَلِکَ بِہِ ذَہَبَ رَسُّہُ وَرِیحُ جُنُونِہِ ، وَذَہَبَ حَرَامُہُ وَبَقِیَ حَلاَلُہُ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ : وَأُرَاہُ قَالَ : وَالطَّیِّبُ مِنْہُ ، فَإِذَا أَتَاکَ کِتَابِی ہَذَا فَمُرْ مَنْ قِبَلَکَ فَلْیَتَوَسَّعُوا بِہِ فِی أَشْرِبَتِہِمْ ، وَالسَّلاَمُ۔
(٢٤٤٨٤) حضرت عبد الملک بن عمیر نے ابو الہیاج کے بارے میں بیان کیا کہ حجاج نے انھیں مدعو کیا اور کہا۔ طلاء کے بارے میں حضرت عمر کا حضرت عمار کو لکھا گیا خط تم مجھے دکھاؤ۔ پس حضرت ابو الہیاج (وہاں سے) اس حالت میں نکلے کہ وہ غم گین تھے کہ اس دوران ابو الہیاج کو حضرت شعبی ملے انھوں نے ابو الہیاج سے (غمگینی کی وجہ) دریافت کی۔ چنانچہ انھوں نے شعبی کو وہ ساری بات بتادی جو حجاج نے ان سے کہی تھی۔ اس پر حضرت شعبی نے ابو الہیّاج سے کہا۔ قلم اور دوات اور کاغذ لاؤ۔ خدا کی قسم ! میں نے یہ خط تمہارے باپ سے صرف ایک ہی مرتبہ سُنا ہے۔ چنانچہ حضرت شعبی نے ابو الہیاج کو یہ املاء کروایا ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کی جانب (خط) ۔ اما بعد ! میرے پاس ملک شام کی طرف سے ایک مشروب لایا گیا تو میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیسے بنایا جاتا ہے ؟ تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ لوگ اس کو اتنا پکاتے ہیں کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب یہ عمل اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس کی خرابی اور فساد ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بےہوشی کی ہوا چلی جاتی ہے اور اس کا حرام چلا جاتا ہے اور اس کا حلال باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں ۔۔۔ میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا۔ ” اور اس کا بہتر حصہ رہ جاتا ہے۔ “۔۔۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو تم اپنے علاقہ کے لوگوں کو حکم دے دو کہ وہ اس مشروب کے ذریعہ اپنے مشروبات میں وسعت کرلیں۔ والسّلام۔