(۲۴۴۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا بِأَرْضٍ ذَاتِ تَمْرٍ وَزَبِیبٍ ، فَہَلْ یُخْلَطُ التَّمْرُ وَالزَّبِیبُ فَنَنْبِذُہُمَا جَمِیعًا ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَجُلاً سَکِرَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیُّ وَہُوَ سَکْرَانُ ، فَضَرَبَہُ ، ثُمَّ سَأَلَہُ عَنْ شَرَابِہِ ، قَالَ : شَرِبْتُ نَبِیذًا ، قَالَ : أَیَّ نَبِیذٍ ؟ قَالَ : نَبِیذُ تَمْرٍ وَزَبِیبٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَخْلِطُوہُمَا، فَإِنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا یَکْفِی وَحْدَہُ۔ (احمد ۲۵۔ ابویعلی ۵۷۵۶)
(٢٤٤٨٩) حضرت نجرانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے عرض کیا، ہم لوگ کھجوروں اور کشمش کی زمین میں ہوتے ہیں کیا اس بات کی اجازت ہے کہ کھجور اور کشمش کو ملا لیا جائے پھر ہم ان دونوں کی اکٹھی نبیذ بنالیں۔ انھوں نے جواب دیا، نہیں۔ میں نے پوچھا، کیوں ؟ انھوں نے جواباً فرمایا، ایک آدمی ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں حالت سکر میں تھا کہ اس کو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں اس حال میں لائے کہ وہ نشہ کی حالت میں تھا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مارا (یعنی مارنے کا حکم دیا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے مشروب کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا میں نے نبیذ پی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ” کون سی نبیذ ؟ “ اس نے جواب دیا، کھجور اور کشمش کی نبیذ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم ان دونوں کو باہم خلط نہ کرو کیونکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ کافی ہے۔ “