(۲۴۵۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللہِ الْجَسْرِیُّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ؛ أَنَّہُ سَأَلَہُ عَنِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ: کُنَّا بِالْمَدِینَۃِ وَکَانَتْ کَثِیرَۃَ التَّمْرِ ، فَحَرَّمَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَضِیخَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ یَسْأَلُہُ عَنْ أُمِّہِ ، قَدْ بَلَغَتْ سِنًّا لاَ تَأْکُلُ الطَّعَامَ ، أَیَسْقِیہَا النَّبِیذَ؟ قَالَ: قُلْتُ لَہُ : یَا مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ ، قَالَ : مَا أَمَرْتَہُ بِہِ ؟ قَالَ : أَمَرْتُہُ أَنْ لاَ یَسْقِیَہَا۔ (طبرانی ۵۰۵۔ طیالسی ۹۳۴)
(٢٤٥٠٣) حضرت ابو عبداللہ جسری، حضرت معقل بن یسار کے بارے مں ؟ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت معقل سے شراب کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انھوں نے فرمایا، ہم مدینہ میں ہوتے تھے اور وہ کھجوروں کی کثرت والا علاقہ تھا۔ لیکن جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر فضیخ کو حرام فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اپنی والدہ کے بارے میں ان سے سوال کیا کہ اس کی والدہ عمر کے اس حصہ کو پہنچ گئی ہے کہ جہاں وہ کھانا نہیں کھا سکتی تو کیا سائل اپنی والدہ کو نبیذ پلا دے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا، اے معقل بن یسار ! آپ نے اسے اس کے بارے میں کیا حکم دیا ؟ انھوں نے کہا، میں نے اس کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو نبیذ نہ پلائے۔