(۲۴۵۰۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کُنَّا فِی بَیْتِ أَبِی طَلْحَۃَ وَمَعَنَا سُہَیْلُ بْنُ بَیْضَائَ ، وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ، وَأَبُو عُبَیْدَۃَ ، وَہُمْ یَشْرَبُونَ شَرَابًا لَہُمْ ، إِذْ نَادَی مُنَادٍ : أَلاَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، فَوَاللَّہِ مَا نَظَرُوا أَصِدْقٌ ، أَوْ کَذِبٌ حَتَّی قَالُوا : یَا أَنَسُ ، أَکْفِئْ مَا بَقِیَ فِی الإِنَائِ ، فَأَکْفَأْنَاہُ ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ، فَوَاللَّہِ مَا عَادُوا فِیہَا حَتَّی لَقُوا اللَّہَ۔ (مسلم ۱۵۷۰۔ ابوداؤد ۳۶۶۵)
(٢٤٥٠٥) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو طلحہ کے گھر میں تھے اور ہمارے ساتھ حضرت سہیل بن بیضا ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو عبیدہ تھے اور یہ لوگ شراب پی رہے تھے کہ اسی دوران ایک منادی نے آواز دی۔ خبردار ! شراب حرام قرار دے دی گئی ہے۔ پس خدا کی قسم ! ان حضرات نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی ہے، یہاں تک کہ انھوں نے یہ کہہ دیا۔ اے انس ! برتنوں میں جو شراب باقی رہ گئی ہے وہ الٹ دو ۔ پس ہم نے وہ بقیہ شراب الٹ دی اور اس دن یہ شراب پختہ اور نیم پختہ کھجور سے تیار کردہ تھی۔ پس خدا کی قسم ! پھر یہ لوگ موت تک دوبارہ اس کی طرف نہیں لوٹے۔