(۲۴۶۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : اسْتَسْقَی حُذَیْفَۃُ بِالْمَدَائِنِ ، فَأَتَاہُ دِہْقَانٌ بِإِنَائٍ مِنْ فِضَّۃٍ فِیہِ شَرَابٌ ، فَأَرَادَ أَنْ یَضْرِبَ بِہِ وَجْہَہُ ، فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ الدَّہَاقِینَ یُکْرِمُونَ الأُمَرَائَ بِہَذَا ، قَالَ : إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُہُ ، وَاتَّخَذْتُ عَلَیْہِ الْحُجَّۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِی الْفِضَّۃِ وَالذَّہَبِ۔ (مسلم ۱۶۳۷)
(٢٤٦١٥) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے مقام مدائن میں پانی طلب فرمایا، پس ایک دہقان ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لایا، پس حضرت حذیفہ نے یہ برتن اس دہقان کے منہ پردے مارنا چاہا، حضرت حذیفہ کو بتایا گیا۔ یہ دہقان لوگ تو اس طرح سے امراء کا اکرام کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے کہا، میں نے اس کو اس سے منع بھی کیا تھا اور بطور دلیل کے میں نے اس کو یہ بات بھی بیان کی تھی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے، چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے۔