(۲۴۶۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَمْرٍو بِنْتِ أَبِی عَمْرٍو ، قَالَتْ : کَانَتْ عَائِشَۃُ تَنْہَانَا أَنْ نَتَحَلَّی الذَّہَبَ ، أَوْ نُضَبِّبَ الآنِیَۃَ ، أَوْ نُحَلِّقَہَا بِالْفِضَّۃِ ، فَمَا بَرِحْنَا حَتَّی رَخَّصَتْ لَنَا وَأَذِنَتْ لَنَا أَنْ نَتَحَلَّی الذَّہَبَ ، وَمَا أَذِنَتْ لَنَا ، وَلاَ رَخَّصَتْ لَنَا أَنْ نُحَلِّقَ الآنِیَۃَ ، أَوْ نُضَبِّبَہَا بِالْفِضَّۃِ۔
(٢٤٦٣٧) حضرت ام عمرو بنت ابی عمرو سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ ہمیں اس بات سے منع کرتی تھیں کہ ہم سونے کا اظہار کریں یا ہم برتن پر چاندی چڑھائیں یا اس کے گرد چاندی لگائیں، پس ان کا یہ حکم ہم پر باقی رہا تاآنکہ انھوں نے ہمیں اس بات کی رخصت دے دی۔ اور ہمیں اجازت دے دی کہ ہم سونے کا اظہار کریں لیکن انھوں نے ہمیں برتنوں کے حلقے چاندی سے بنانے اور چاندی، برتنوں پر چڑھانے کی رخصت دی اور نہ ہی اجازت عنایت فرمائی۔