(۲۴۶۴۴) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : رَآنِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَأَنَا أَشْرَبُ ، فَجَعَلْتُ أَقْطَعُ شَرَابِی وَأَتَنَفَّسُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا نُہِیَ أَنْ یُتَنَفَّسَ فِی الإِنَائِ ، فَإِذَا لَمْ تَتَنَفَّسْ فِی الإِنَائِ ، فَاشْرَبْہُ إِنْ شِئْتَ بِنَفَسٍ وَاحِدٍ۔
(٢٤٦٤٤) حضرت ایوب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت میمون بن مہران کے بارے میں خبر ملی کہ وہ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس حالت میں دیکھا کہ میں پانی پی رہا تھا۔ پھر پانی پیتے ہوئے رُک جاتا اور سانس لیتا تو انھوں نے فرمایا صرف اس بات سے روکا گیا ہے کہ برتن کے اندر سانس لیا جائے۔ پس اگر تم برتن کے اندر سانس نہیں لیتے تو پھر تم اگر چاہو تو ایک ہی سانس میں پانی پی لو۔