(۲۴۶۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ حَبِیبٍ مَوْلَی بَنِی زُہْرَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُثَنَّی الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَدَخَلَ أَبُو سَعِیدٍ ، فَقَالَ لَہُ : سَمِعْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَی عَنِ النَّفْخِ فِی الشَّرَابِ ؟ قَالَ : نَعَم ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّی لاَ أُرْوَی بِنَفَسٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : أَبِنِ الإِنَائَ عَنْ فِیکَ ، ثُمَّ تَنَفَّسْ ، قَالَ : فَإِنْ رَأَیْتُ قَذَرًا ؟ قَالَ : فَأَہْرِقْہُ۔ (ابوداؤد ۳۷۱۵۔ دارمی ۲۱۲۱)
(٢٤٦٥٧) حضرت ابو المثنی جہنی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مروان بن الحکم کے ہاں موجود تھا کہ حضرت ابوسعید تشریف لائے ۔ مروان نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کرتے سُنا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ راوی کہتے ہیں : اس پر ایک آدمی بولا۔ میں تو ایک سانس میں بالکل سیراب نہیں ہوتا۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا : تم برتن کو اپنے منہ سے جُدا کرلو پھر سانس لے لو۔ اس آدمی نے کہا۔ پس اگر میں (پانی میں) گندگی دیکھوں ؟ آپ نے فرمایا : تو تم اس پانی کو بہا دو ۔