(۲۴۶۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قُرَّۃَ الْعِجْلِیّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُتِیَ بِقَدَحٍ فِیہِ شَرَابٌ ، فَقَرَّبَہُ إِلَی فِیہِ ، ثُمَّ رَدَّہُ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ جُلَسَائِہِ : أَحَرَامٌ ہُوَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : رُدُّوہُ ، فَرَدَّوہُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّہُ عَلَیْہِ ، ثُمَّ شَرِبَہُ ، فَقَالَ : اُنْظُرُوا ہَذِہِ الأَشْرِبَۃَ ، فَإِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَیْکُمْ فَاقْطَعُوا مُتُونَہَا بِالْمَائِ۔
(٢٤٦٩١) حضرت ابن عمر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پیالہ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس رکھ دیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعض مجلس نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا۔ ” اس مشروب کو واپس لاؤ۔ “ چنانچہ صحابہ نے وہ مشروب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپس کردیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اور پھر اس کو نوش فرما لیا۔ اور ارشاد فرمایا : ان مشروبات کو دیکھ لیا کرو۔ پس جب یہ تم پر سخت ہوجائیں تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ “