(۲۴۷۸۶) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنِی أَبُو رَمْلَۃَ ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَیْمٍ ؛ ذَکَرَ وُقُوفًا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ عَلَی کُلِّ بَیْتٍ فِی کُلِّ عَامٍ أَضْحَی وَعَتِیرَۃٌ ، أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِیرَۃُ ؟ قَالَ : ہِیَ الَّتِی یُسَمِّیہَا النَّاسُ الرَّجَبِیَّۃُ۔ (ابوداؤد ۲۷۸۱۔ ترمذی ۱۵۱۸)
(٢٤٧٨٦) حضرت ابن عون بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو رملہ نے حضرت مخنف بن سلیم کے حوالہ سے بتایا کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ عرفہ کے مقام پر وقوف کیاْ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ہر گھر (والوں) پر ہر سال ایک اضحیہ اور ایک عتیرہ ہے۔ “ جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ وہی قربانی ہے جس کو لوگ رجبی (قربانی) کہتے ہیں۔ “