(۲۴۹۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الرَّازِیّ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، عَنْ سُوَیْد ، غُلاَمٍ کَانَ لِسَلْمَانَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ خَیْرًا ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحْنَا الْمَدَائِنَ خَرَجَ النَّاسُ فِی طَلَبِ الْعَدُوِّ ، قَالَ : قَالَ سَلْمَانُ : وَقَدْ أَصَبْنَا سَلَّۃً ، فَقَالَ : افْتَحُوہَا فَإِنْ کَانَ طَعَامًا أَکَلْنَاہُ ، وَإِنْ کَانَ مَالاً دَفَعْنَاہُ إِلَی ہَؤُلاَئِ ، قَالَ : فَفَتَحْنَاہَا فَإِذَا أَرْغِفَۃٌ حُوَّارَی ، وَإِذَا جُبْنَۃٌ وَسِکِّینٌ ، قَالَ : وَکَانَ أَوَّلُ مَا رَأَتِ الْعَرَبُ الْحُوَّاری ، فَجَعَلَ سَلْمَانُ یَصِفُ لَہُمْ کَیْفَ یُعْمَلُ ، ثُمَّ أَخَذَ السِّکِّینَ وَجَعَلَ یَقْطَعُ ، وَقَالَ : بِسْمِ اللہِ کُلُوا۔
(٢٤٩٠١) حضرت سوید سے روایت ہے ۔۔۔یہ حضرت سلمان کے غلام تھے اور ان کی اچھی تعریف کرتے تھے ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے مدائن کو فتح کرلیا تو لوگ دشمن کی تلاش میں نکلے۔۔۔ اس دوران ہمیں ایک ٹوکری ملی۔ اسے دیکھ کر حضرت سلمان نے کہا کہ اگر اس میں کھانا ہے تو ہم اسے کھائیں گے، اگر مال ہے تو ہم انھیں واپس دیں گے۔ جب ہم نے اسے کھولا تو اس میں خاص قسم کی کچھ روٹیاں، پنیر اور چھری تھی۔ یہ چیز عربوں نے پہلی بار دیکھی تھی۔ حضرت سلمان نے لوگوں کو بتایا کہ یہ کیسے بنائی جاتی ہیں پھر انھوں نے چھری سے اسے کاٹا او فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔